لاہور: بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے کے باعث اٹھنے والا دھواں اور مضرِ صحت ہوائیں مسلسل پنجاب کے مختلف علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق بھارت کی جانب سے آنے والا دھواں لاہور، قصور، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ سمیت کئی شہروں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کو خطرناک سطح تک پہنچا رہا ہے۔
محکمۂ ماحولیات پنجاب کے مطابق بھارت کے صوبہ ہریانہ اور مشرقی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان علاقوں سے اٹھنے والا دھواں سرحد پار پاکستان کے بالائی پنجاب میں داخل ہو کر فضا کو زہریلا بنا رہا ہے۔ لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 400 سے تجاوز کر گیا ہے، جو عالمی ادارۂ صحت کے معیار کے مطابق انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مضر ہواؤں میں کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور دیگر زہریلے کیمیکل شامل ہیں جو سانس کی بیماریوں، آنکھوں کی جلن اور دل کے امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسپتالوں میں سانس اور دمے کے مریضوں کی تعداد میں بھی واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں اینٹوں کے بھٹے، فیکٹریوں اور فضائی آلودگی کے دیگر مقامی ذرائع پر سخت نگرانی رکھی جائے۔ حکومت نے شہریوں کو غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز اور ماسک کے استعمال کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے بھارت سے فضائی آلودگی کے مسئلے پر سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرانے کا عندیہ دیا ہے اور عالمی ماحولیاتی فورمز پر یہ معاملہ اٹھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔