لاہور: پنجاب حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم جماعت قرار دیتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی دفعات کے تحت کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کی سرگرمیاں عوامی امن و امان کے لیے خطرہ ثابت ہو رہی تھیں اور حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس بنا پر تنظیم کو کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ٹی ایل پی کے تمام دفاتر، بینک اکاؤنٹس اور فلاحی اداروں کے اثاثے منجمد کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے، جب کہ تنظیمی عہدیداروں اور رہنماؤں کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کسی بھی تنظیم کو مذہب کے نام پر تشدد، نفرت یا ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دے سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبے بھر میں کالعدم تنظیم کے کارکنوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
وفاقی وزارتِ داخلہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ نوٹیفکیشن پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور تنظیم کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے مربوط کارروائی کی جائے۔