ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بنگلہ دیش کو خارج کرنے کے معاملے پر کشیدگی کے تناظر میں سری لنکا نے اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ سری لنکا کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری بندولا ڈسا نائیکے نے واضح کیا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان موجودہ تنازعے پر سری لنکا غیر جانبدار رہے گا کیونکہ یہ سب اس کے دوست ممالک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر طلب کی جائے تو مستقبل میں بھی وہ ٹورنامنٹس کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ سری لنکا کے وزیر کھیل سنیل کمار گمباگے نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی ترجیح یہ ہے کہ ٹورنامنٹ بہترین طریقے سے چلے اور انہوں نے پاکستان اور بھارت کے میچ کو کروانے پر خاص توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ اس پر واضح رہے کہ آنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے تمام میچ سری لنکا میں ہی کھیلے جائیں گے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھارت میں اپنے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے چار میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ آئی سی سی نے اس مطالبے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو ہی ٹورنامنٹ سے خارج کر دیا۔ اس فیصلے کی بھارتی صحافیوں اور کرکٹ ماہرین نے بھی تنقید کی ہے۔ یہ صورت حال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی ممکنہ بائیکاٹ یا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے اختیارات پر غور کر رہا ہے۔