لاہور: پنجاب کے مختلف شہروں میں سموگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ لاہور آج بھی دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست ہے۔ فضائی آلودگی کی شدت میں مسلسل اضافہ شہریوں کے لیے شدید صحت کے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA) کی رپورٹ کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) آج 380 سے تجاوز کر گیا، جو خطرناک حد سمجھی جاتی ہے۔ اس سطح پر فضا میں دھول، دھواں اور زہریلے ذرات کی مقدار انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔ دیگر متاثرہ شہروں میں فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور قصور شامل ہیں، جہاں فضائی معیار بھی مسلسل بگڑ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فصلوں کی باقیات جلانے، ٹریفک کے دھوئیں، بھٹوں اور صنعتی فضلے کے باعث سموگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز، ماسک کے استعمال اور آنکھوں کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پنجاب حکومت نے سموگ کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر ممکنہ ہنگامی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسکولوں میں چھٹیوں، بھٹوں کی بندش اور صنعتی سرگرمیوں میں عارضی کمی کے فیصلے متوقع ہیں۔
دوسری جانب، ماحولیاتی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دیرپا اقدامات کرے تاکہ آلودگی کے بنیادی اسباب پر قابو پایا جا سکے، کیونکہ موجودہ صورت حال شہری صحت اور معیشت دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔