لاہور: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کا سراغ لگا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، خفیہ اداروں نے جدید ٹیکنالوجی اور سرویلنس سسٹم کی مدد سے ان کی ممکنہ موجودگی کے مقامات کی نشاندہی کی ہے، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے کارروائی کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعد رضوی کئی ہفتوں سے منظر عام پر نہیں آئے تھے اور ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف اطلاعات زیر گردش تھیں۔ تاہم حالیہ پیشرفت کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل ڈیٹا، اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے مدد لی جا رہی ہے۔
ادھر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سعد رضوی سے متعلق کوئی بھی کارروائی قانون کے مطابق ہوگی، اور ان کے خلاف مقدمات کی بنیاد پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سعد رضوی کی ممکنہ گرفتاری یا پیشی کا اثر موجودہ سیاسی فضا پر بھی پڑ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پنجاب میں امن و امان کی صورتحال پہلے ہی نازک قرار دی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، وزارت داخلہ کو بھی اس حوالے سے ابتدائی رپورٹ موصول ہو چکی ہے، اور جلد ہی اس معاملے پر باضابطہ بیان متوقع ہے۔