پاکستان میں رمضان المبارک 1447 ہجری کا آغاز ہوچکا ہے اور یکم رمضان کے موقع پر شہریوں کو پھلوں اور دیگر خوردنی اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کا سامنا ہے جس سے عام آدمی کی پریشانیاں دوچند ہوگئی ہیں۔ ملک بھر کے بازاروں میں پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور معیاری پھلوں کی قیمتیں عام شہریوں کی قوت خرید سے بہت باہر ہوچکی ہیں۔ کیلے، سیب، انگور، آم اور موسمی پھلوں کی قیمتیں رمضان سے قبل کے مقابلے میں پچاس سے اسی فیصد تک بڑھ چکی ہیں اور ایک درجن کیلے جو کچھ ہفتے قبل ڈیڑھ سو سے دو سو روپے میں دستیاب تھے اب تین سو سے چار سو روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پھلوں کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ منڈیوں میں بیٹھے آڑھتی اور بیوپاری ہیں جنہوں نے رمضان سے قبل ہی پھلوں کو سٹور کرلیا تھا اور اب مصنوعی قلت پیدا کرکے من مانی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔ سیب جو گزشتہ ماہ دو سو سے ڈھائی سو روپے کلو فروخت ہو رہا تھا اب چار سے پانچ سو روپے کلو تک پہنچ گیا ہے جبکہ انگور اور ناشپاتی کی قیمتیں بھی دگنی ہوچکی ہیں۔ ریڑھی بان اور پھل فروش شکایت کرتے ہیں کہ منڈیوں میں بیٹھے آڑھتی ان سے بھی مہنگے داموں پھل فروخت کرتے ہیں اور وہ مجبوراً عوام سے زیادہ قیمت لیتے ہیں ورنہ انہیں خسارہ ہو جاتا ہے۔
حکومتی حکام نے رمضان پیکیج کا اعلان کیا تھا اور سستے رمضان بازار قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں اور عام بازاروں میں پھلوں کی قیمتیں بے قابو ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹی کی جانب سے روزانہ ریٹ لسٹ جاری کی جاتی ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے اور محکمہ انتظامیہ کی جانب سے صرف چھوٹے ریڑھی بانوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جبکہ اصل ملزم منڈیوں میں بیٹھے ذخیرہ اندوز ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان میں افطاری کے وقت پھل استعمال کرنا سنت ہے لیکن آسمان کو چھوتی قیمتوں کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے لوگ اپنے بچوں کو معیاری پھل نہیں کھلا سکتے۔
سماجی کارکنوں اور رفاہی تنظیموں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان میں من مانی قیمتوں پر سامان فروخت کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ مذہبی اعتبار سے بھی گناہ کبیرہ ہے کیونکہ روزہ داروں کو پریشان کرنا اور ان سے زیادتی کرنا اللہ کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے۔ کچھ رفاہی تنظیموں نے سستے داموں پھل فروخت کرنے کے لیے اسٹال لگائے ہیں جہاں دس سے بیس روپے کلو کی قیمت پر پھل فروخت کیے جا رہے ہیں تاکہ غریب لوگ بھی اپنے بچوں کو پھل کھلا سکیں لیکن یہ اقدام محدود ہے اور تمام شہریوں تک نہیں پہنچ سکتا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت سنجیدگی سے قیمتوں پر قابو پائے اور منڈیوں میں بیٹھے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ رمضان کے بابرکت مہینے میں شہریوں کو ریلیف مل سکے۔
ماخد : ڈیلی پاکستان https://dailypakistan.com.pk/15-Feb-2026/1910462