لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں کم از کم اجرت کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کا مقصد نجی اور صنعتی اداروں میں مزدوروں کو مقررہ قانونی اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔
ترجمان محکمہ محنت کے مطابق حکومت نے ہدایت جاری کی ہے کہ صوبے میں کم از کم اجرت 37 ہزار روپے ماہانہ سے کم نہیں دی جائے گی۔ اس حوالے سے انسپکٹرز کو فیلڈ میں چیکنگ کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ محنت کے افسران نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، راولپنڈی اور سیالکوٹ میں ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں فیکٹریوں، ورکشاپوں، ہوٹلوں اور نجی اداروں میں جا کر مزدوروں سے اجرت کے حوالے سے تفصیلات حاصل کریں گی۔
صوبائی وزیر محنت نے کہا کہ “مزدور طبقہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی صنعت یا ادارے کو قانون سے بالاتر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مزدور تنظیموں نے حکومت کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مہم کو صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ چھوٹے اضلاع میں بھی اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔