لاہور: حکومتِ پنجاب نے صوبے میں محدود پیمانے پر بسنت کے انعقاد کی اجازت دینے کے لیے قانون میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی کابینہ نے ابتدائی طور پر لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں تجرباتی بنیادوں پر بسنت منانے کی تجویز پر غور کیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی رپورٹ کے مطابق نئی قانون سازی کے تحت صرف مخصوص اور محفوظ علاقوں میں پتنگ بازی کی اجازت دی جائے گی، جبکہ دھاتی اور کیمیکل والی ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔ اس کے علاوہ پتنگ بازی کے اوقات اور علاقوں کی نگرانی کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم کیے جائیں گے۔
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بسنت کو “ثقافتی تہوار” کے طور پر بحال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی تفریح، سیاحت اور مقامی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
یاد رہے کہ پنجاب میں 2007 سے بسنت پر پابندی عائد ہے جس کی بنیادی وجہ خونی ڈور سے ہونے والے ہلاکت خیز حادثات تھے۔ حکومت نے اب جدید حفاظتی نظام اور پابندیوں کے ساتھ اس تہوار کو محدود پیمانے پر بحال کرنے کی تیاری کر لی ہے۔