تل ابیب (بین الاقوامی خبر رساں ادارے): اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف ہزاروں شہری ایک بار پھر تل ابیب سمیت دیگر شہروں کی سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے حکومت کی پالیسیوں، غزہ جنگ کے تسلسل اور داخلی معاشی بحران پر شدید احتجاج کیا۔
مظاہروں میں شریک شہریوں نے نعرے لگاتے ہوئے نیتن یاہو سے فوری استعفے اور عام انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسلسل جنگی پالیسیوں نے اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے جبکہ معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق تل ابیب کے مرکزی آزادی چوک میں ہزاروں افراد نے دھرنا دیا اور حکومت مخالف بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’امن چاہیے، جنگ نہیں‘‘ اور ’’نیتن یاہو استعفیٰ دو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔
سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، جس کے دوران بعض مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
مظاہرین میں شامل سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو حکومت غزہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک اظہار رائے کی آزادی کو بھی محدود کر رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
حوالہ: تفصیلات الجزیرہ، بی بی سی عربی، اور رائٹرز کی 6 اکتوبر 2025 کی رپورٹس سے اخذ کی گئی ہیں۔