پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی گیٹس بند کرنے کے ساتھ ساتھ باہر اور اندر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ قیدی وین اور بکتر بند گاڑیاں بھی پارلیمنٹ کے سامنے پہنچا دی گئی ہیں۔ سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے تحت ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس نہ صرف عام شہریوں بلکہ اراکین اسمبلی کو بھی پارلیمنٹ کی طرف جانے سے روک رہی ہے۔ اس دوران پی ٹی آئی کے اراکین اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو ریڈیو پاکستان چوک پر روک لیا گیا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فتح اللہ خان کی پولیس سے تلخ کلامی ہوئی اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کے گارڈ کو تھپڑ مارے۔