پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا سے گفتگو میں سیاسی صورتحال پر اہم بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں، اگر ہوا تو چھپائیں گے نہیں۔” ان کا مؤقف تھا کہ مخالفین کے ساتھ دشمنی نہیں ہے اور صلح صفائی بہتر ہے، لیکن حکومت کا ایک طرف ہاتھ ملانا اور دوسری طرف مکا مارنا حالات کو بہتر نہیں بناتا۔انہوں نے واضح کیا کہ جیل میں موجود پارٹی بانی رہنما عمران خان سے ملاقاتوں کو ان کا “آئینی اور قانونی حق” قرار دیا۔ ان کے مطابق تین بہنیں (بیوی، بہنیں) تو باقاعدہ ملاقات کے لیے آتی ہیں، جبکہ دیگر افراد صرف اظہار یکجہتی کے لیے آتے ہیں۔
چیئرمین گوہر خان نے اپوزیشن قیادت بالخصوص نئے مقرر ہونے والے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی پر زور دیا کہ انہیں موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ “گریبانوں سے ہاتھ نکالنا ہوگا… ہم سب کو اپنی انا ختم کرنی ہوگی۔”انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کے لیے تین گھنٹے تک انتظار کرتے رہے، لیکن ان کی مصروفیت کے باعث یہ ملاقات نہیں ہو سکی۔ آخر میں انہوں نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر لگنے والے الزامات پر کہا کہ نہ تو حکومت کو ایسے کام کرنے چاہئیں اور نہ ہی مخالفین کو بغیر ثبوت کے الزامات لگانے چاہئیں۔