اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پیپلزپارٹی سے باضابطہ طور پر حمایت طلب کی ہے۔ بلاول کے مطابق پارٹی کی قیادت اس ترمیم کے مسودے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور فیصلہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم ملک کے سیاسی نظام پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں، اس لیے پیپلزپارٹی کسی بھی ترمیم کی غیر مشروط حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ آئین میں تبدیلی صرف اتفاقِ رائے سے ہونی چاہیے، نہ کہ کسی ایک جماعت کی خواہش پر۔
ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ نگراں حکومتوں کی مدت، پارلیمانی اختیارات اور بعض انتخابی اصلاحات سے متعلق ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ اس ترمیم سے آئینی ابہام دور ہوگا جبکہ پیپلزپارٹی اس کے کچھ نکات پر تحفظات رکھتی ہے۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گی اور آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ انہوں نے ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں تبدیلی سیاسی مفادات کے لیے نہیں بلکہ عوامی فلاح کے لیے ہونی چاہیے۔