لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص فارم ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگئی ہے، کیونکہ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان نے گزشتہ 25 میچوں میں بڑی ٹیموں کے خلاف انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارکردگی ٹیم مینجمنٹ، حکمتِ عملی اور تسلسل کی شدید کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم نے گزشتہ 25 بین الاقوامی میچوں میں آسٹریلیا، بھارت، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیموں کے خلاف صرف 5 میچ جیتے جبکہ 20 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان شکستوں میں سے کئی میچز یکطرفہ ثابت ہوئے، جہاں بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں کمزوریاں واضح نظر آئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی ٹیم بڑے میچز میں دباؤ برداشت نہیں کر پاتی اور حکمتِ عملی کے فقدان کے باعث حریف ٹیمیں باآسانی برتری حاصل کر لیتی ہیں۔ خاص طور پر بیٹنگ آرڈر کی ناہمواری، اسپنرز کا غیر مؤثر ہونا اور فیلڈنگ میں غلطیاں ٹیم کی کارکردگی کو مزید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سابق کپتانوں کا کہنا ہے کہ ٹیم کو اگر عالمی سطح پر مقابلہ کرنا ہے تو طویل المدتی منصوبہ بندی، درست کمبی نیشن اور نوجوان کھلاڑیوں کو اعتماد دینا ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر بڑی ٹیموں کے خلاف جیت کا خواب یونہی ادھورا رہے گا۔
کرکٹ شائقین کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیم کی موجودہ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کیونکہ قومی ٹیم کی کارکردگی عوامی توقعات سے بہت نیچے گر چکی ہے۔