راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان آرمی نے افغان سرحد کے قریب دہشتگردوں کی جانب سے کی گئی بڑے پیمانے پر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے 200 سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جب کہ اس آپریشن کے دوران پاک فوج کے 23 جوان جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ذرائع کے مطابق حملہ افغان سرزمین سے منصوبہ بند کارروائی کا نتیجہ تھا جس میں درجنوں مسلح دہشتگردوں نے سرحد پار سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر فائرنگ اور راکٹ حملے کیے۔ پاک فوج نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے اور بھاری ہتھیاروں سے دشمن کو شدید نقصان پہنچایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملے کے دوران پاک فضائیہ اور زمینی دستوں نے مشترکہ آپریشن کیا، جس میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور مارٹر گنز کا استعمال کیا گیا۔ کارروائی کئی گھنٹے جاری رہی اور علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے اضافی دستے بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔
فوجی ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے اس حملے کے شواہد افغان حکام کے ساتھ شیئر کر دیے ہیں، جبکہ کابل حکومت کو سرحدی تحفظ کے معاہدوں کی پاسداری کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ “پاکستان اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، دشمن کو ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔”
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف غیر متزلزل عزم کی علامت ہے اور یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ کسی بھی بیرونی حملے کو سختی سے روکا جائے گا۔