بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 2025 میں 40.18 ارب ڈالر وطن بھیجے، اسٹیٹ بینک
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سال 2025 کے لیے ترسیلات زر کے حوالے سے حوصلہ افزا اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے پورے سال کے دوران 40.18 ارب ڈالر کی ریکارڈ رقم پاکستان بھیجی ہے جو ملک کی معیشت کے لیے انتہائی اہم اور مثبت خبر ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق صرف دسمبر 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 3.58 ارب ڈالر وطن بھیجے جو ماہانہ بنیاد پر ایک بہترین کارکردگی ہے۔ سال 2025 میں سب سے زیادہ ترسیلات مارچ کے مہینے میں 4.05 ارب ڈالر رہیں جبکہ کم ترین ترسیلات جنوری میں 3 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں اور پورے سال کی اوسط ماہانہ ورکرز ریمیٹنسز 3.34 ارب ڈالر رہی۔ ملک وار تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے دسمبر میں سب سے زیادہ 81 کروڑ ڈالر بھیجے جبکہ متحدہ عرب امارات سے 72 کروڑ ڈالر، برطانیہ سے 56 کروڑ ڈالر اور یورپی ممالک سے مجموعی طور پر 49 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔
یہ ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ یہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ریمیٹنسز میں اضافے کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلات بھیجنے کی حوصلہ افزائی اور ہنڈی اور حوالہ جیسے غیر قانونی راستوں پر سخت کریک ڈاؤن ہے۔ اسٹیٹ بینک نے روپے کی مستحکم قدر اور بہتر شرح تبادلہ کو بھی ترسیلات میں اضافے کی وجوہات میں شمار کیا ہے جس سے بیرون ملک پاکستانیوں کو بینکنگ چینلز استعمال کرنے کی ترغیب ملی۔ حکومت نے ڈیجیٹل بینکنگ اور موبائل والٹس کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں جس سے ترسیلات کا عمل آسان اور تیز ہو گیا ہے اور لوگوں کو فوری طور پر رقم موصول ہونے لگی ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری کا عکاس ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سال بھی یہ رجحان جاری رہے گا اور ترسیلات زر میں مزید اضافہ ہوگا۔
حوالہ: پبلک نیوز