لاہور: فضائی آلودگی کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک حد تک بگڑ گئی ہے اور لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔ بین الاقوامی ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 390 تک جا پہنچا، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق سموگ کی بنیادی وجوہات میں فصلوں کی باقیات کو جلانا، گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کا فضلہ اور موسم کی خشک صورتحال شامل ہیں۔ لاہور کے مختلف علاقوں جن میں گلبرگ، ڈیفنس، شالیمار، اور اقبال ٹاؤن شامل ہیں، میں فضائی معیار خطرناک حد تک متاثر ہوا ہے۔
پنجاب حکومت نے آلودگی پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی ایکشن پلان فعال کر دیا ہے۔ اسکولوں اور دفاتر میں ماسک کے استعمال کی ہدایت جاری کی گئی ہے جبکہ ممکنہ طور پر ہفتے کے اختتام پر سموگ لاک ڈاؤن لگانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ صنعتی علاقوں میں چیکنگ سخت کی جائے اور کھیتوں میں فصلیں جلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ ماہرین نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، ماسک کے استعمال، اور زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیا ہے۔