لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں رواں سال کے دوران خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق سال 2025 کے دوران اب تک ریپ کے 481 جبکہ گینگ ریپ کے 31 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ مقدمات تھانہ گجرپورہ، نشتر کالونی، کاہنہ اور گرین ٹاؤن کے علاقوں میں درج ہوئے، جہاں خواتین اور کمسن بچیاں جرائم پیشہ عناصر کا نشانہ بنیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کیسز میں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ کچھ واقعات کی تفتیش اب بھی جاری ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے مطابق پولیس نے جنسی جرائم کے انسداد کے لیے خصوصی مہم شروع کر رکھی ہے اور خواتین کے تحفظ کے لیے “ویمن ریسپانس یونٹ” اور “سائبر سیل” کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ خواتین کی شکایات خفیہ طور پر درج کی جاتی ہیں تاکہ انہیں سماجی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب سماجی تنظیموں اور حقوقِ نسواں کے کارکنان نے ان اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کریں، خصوصاً اسکولوں، کالجوں اور ورک پلیسز پر حفاظتی نظام کو مزید سخت بنایا جائے۔