ہر ڈس آنر چیک فوجداری جرم نہیں ہوتا جب تک بدنیتی ثابت نہ ہو: لاہور ہائیکورٹ

browse cricket leagues

  • پی ایس ایل
  • آئی پی ایل
  • بی پی ایل
  • بی پی ایل
  • سی پی ایل
  • ایل پی ایل

browse sports

  • کرکٹ
  • فٹ بال
  • ہاکی
  • ٹینس
  • ٹیبل ٹینس
  • سکواش
  • باکسنگ
  • والی بال
  • بیڈمنٹن

Browse Pakistan News

  • لاہور
  • کراچی
  • اسلام آباد
  • ملتان
  • فیصل آباد
  • راولپنڈی
  • گجرانوالہ
  • پشاور
  • حیدر آباد

ہر ڈس آنر چیک فوجداری جرم نہیں ہوتا جب تک بدنیتی ثابت نہ ہو: لاہور ہائیکورٹ

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ہر ڈس آنر چیک (Dishonoured Cheque) کا معاملہ خود بخود فوجداری جرم نہیں بنتا، جب تک کہ مدعا علیہ کی بدنیتی (Mens Rea) واضح طور پر ثابت نہ ہو۔ عدالت نے کہا کہ کسی شخص کے خلاف صرف چیک باؤنس ہونے کی بنیاد پر فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے یہ فیصلہ ایک کاروباری تنازع سے متعلق مقدمے میں سنایا، جہاں مدعی نے ملزم پر الزام لگایا تھا کہ اس نے جان بوجھ کر رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیے جعلی چیک جاری کیا۔ عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ملزم کے خلاف بدنیتی کے ثبوت ناکافی ہیں، اس لیے فوجداری کارروائی کو برقرار رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی معاملے میں چیک باؤنس ہونا کاروباری تنازع، ادائیگی کے شیڈول یا لین دین کی پیچیدگی کی وجہ سے ہو، تو ایسے معاملات کو دیوانی نوعیت کا سمجھا جائے گا، نہ کہ فوجداری جرم۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون برائے چیک ڈس آنر (Negotiable Instruments Act) کا مقصد کاروباری لین دین میں اعتماد بحال رکھنا ہے، تاہم بدنیتی کے بغیر کسی شخص کو مجرم قرار دینا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں کاروباری اور مالی تنازعات کے کئی مقدمات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے عدالتوں میں زیرِ سماعت درجنوں کیسز کی نوعیت تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

تازہ ترین پوسٹ ....

ایک تبصرہ چھوڑیں

اوپر تک سکرول کریں۔