لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کائٹ فلائنگ ریگولیشن ایکٹ 2025 پر فوری عملدرآمد روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے اور معاملے کو آئندہ سماعت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے تمام فریقین کو دلائل کے لیے طلب کر لیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کی جس میں درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور دلیل دی کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ پتنگ بازی ایک خونی کھیل ہے اور اس کی اجازت دینا شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ کو کالعدم قرار دیا جائے اور حتمی فیصلے تک ایکٹ پر عملدرآمد کو روک دیا جائے تاکہ شہریوں کو خطرناک ڈور اور پتنگ بازی کی وجہ سے ہونے والے حادثات سے بچایا جا سکے۔
دوران سماعت عدالت نے کائٹ فلائنگ ایکٹ پر فوری عملدرآمد روکنے کی استدعا کو مسترد کر دیا اور درخواست گزار سے کہا کہ وہ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کو بھی اس کیس میں فریق بنائے تاکہ تمام متعلقہ فریقین کے موقف سنے جا سکیں۔ عدالتی حکم پر درخواست گزار نے کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کو فریق بنا دیا اور اب یہ تنظیم بھی اپنا موقف عدالت میں پیش کرے گی۔ عدالت نے درخواست پر مزید کارروائی 16 جنوری 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت میں سرکاری وکیل کو تفصیلی دلائل پیش کرنے کی ہدایت دے دی ہے اور حکومت سے توقع کی ہے کہ وہ ایکٹ کے حق میں اپنے مکمل موقف کو عدالت کے سامنے واضح کرے۔ یہ کیس پنجاب حکومت کی جانب سے 25 سال بعد لاہور میں بسنت کی واپسی کے فیصلے کی روشنی میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ حکومت نے سخت شرائط اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ بسنت منانے کی اجازت دی ہے لیکن تحفظات کا اظہار کرنے والے حلقے اس فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں۔ عدالت کا حتمی فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا پنجاب میں باقاعدہ طور پر منظم اور محفوظ پتنگ بازی کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔
حوالہ: لاہور نیوز