غزہ/بیروت: اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ اور جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر فضائی اور توپ خانے سے حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
غزہ کی مقامی انتظامیہ کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے رات گئے خان یونس اور رفح کے قریب رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ بمباری سے دو مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ کئی لاپتہ افراد کو ملبے تلے نکالنے کے لیے ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب لبنان کے سرحدی قصبے نبطیہ میں اسرائیلی شیلنگ سے ایک خاتون اور دو بچوں سمیت تین افراد جاں بحق ہوئے۔ حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے جواب میں اس کے جنگجوؤں نے شمالی اسرائیل میں فوجی چیک پوسٹوں پر جوابی راکٹ داغے۔
اقوام متحدہ نے اسرائیلی کارروائیوں کو “تشویشناک” قرار دیتے ہوئے فریقین سے فوری طور پر سیز فائر کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی برادری کے کئی ممالک، بشمول ترکی، ایران اور اردن نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور انہیں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ کارروائیاں اس بات کا عندیہ ہیں کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے، جو خطے میں امن عمل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔