دبئی: سابق بین الاقوامی میچ ریفری نے انکشاف کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے فیصلے اکثر بھارت کے حق میں کیے جاتے ہیں، جس سے کھیل کی غیرجانبداری اور شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ریفری کے مطابق آئی سی سی کے اندر اثرورسوخ رکھنے والے بھارتی عہدیداران اپنے مفادات کے لیے فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سابق ریفری نے بتایا کہ کئی مواقع پر بھارتی ٹیم کے خلاف واضح فیصلوں کو نرم کیا گیا، جبکہ دیگر ٹیموں کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جانبداری کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے اور کھلاڑیوں کے اعتماد کو متزلزل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ اہم میچز میں امپائرنگ اور جرمانوں کے معاملات میں دوہرا معیار اپنایا گیا، جس سے بھارت کو فائدہ پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کرکٹ کو واقعی عالمی کھیل کے طور پر غیر جانبدار رکھنا ہے تو آئی سی سی کو اپنے فیصلوں میں شفافیت لانا ہوگی۔
ریفری نے تجویز دی کہ آئی سی سی کو ایک آزادانہ انضباطی بورڈ تشکیل دینا چاہیے جو ہر ملک کے کھلاڑیوں اور ٹیموں کے لیے یکساں ضابطے نافذ کرے تاکہ کھیل کی غیرجانبداری بحال ہو سکے۔
سابق ریفری کے اس انکشاف نے کرکٹ حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، اور شائقین کا مطالبہ ہے کہ آئی سی سی ان الزامات کی شفاف تحقیقات کرے۔