اسلام آباد: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے “فتنہ الہندوستان” نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو گرفتار کر کے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ دونوں دہشتگرد طویل عرصے سے روپوش تھے اور ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار ملزمان غیر ملکی سرزمین سے مالی مدد حاصل کر رہے تھے، جبکہ انہوں نے پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات، حساس اداروں پر حملے اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان کے قبضے سے جدید اسلحہ، دھماکہ خیز مواد، لیپ ٹاپ اور متعدد جعلی شناختی کارڈ برآمد ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں دہشتگردوں نے تفتیش کے دوران اپنے مزید ساتھیوں کے نام اور خفیہ ٹھکانوں کا اعتراف کیا ہے۔ سکیورٹی اداروں نے ان کے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز شروع کر دیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ “فتنہ الہندوستان” نامی نیٹ ورک بیرون ملک سے چلایا جا رہا تھا، جس کا مقصد پاکستان میں بدامنی پھیلانا اور حساس اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنا تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار دہشتگردوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہیں بیرونی ایجنسیوں سے ٹریننگ اور مالی امداد فراہم کی جاتی رہی۔
وزیر داخلہ نے دہشتگردوں کی گرفتاری کو سکیورٹی اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دی جائے گی۔