ایف آئی اے کے اختیارات میں توسیع، ویزا کے باوجود سخت جانچ لازمی

browse cricket leagues

  • پی ایس ایل
  • آئی پی ایل
  • بی پی ایل
  • بی پی ایل
  • سی پی ایل
  • ایل پی ایل

browse sports

  • کرکٹ
  • فٹ بال
  • ہاکی
  • ٹینس
  • ٹیبل ٹینس
  • سکواش
  • باکسنگ
  • والی بال
  • بیڈمنٹن

Browse Pakistan News

  • لاہور
  • کراچی
  • اسلام آباد
  • ملتان
  • فیصل آباد
  • راولپنڈی
  • گجرانوالہ
  • پشاور
  • حیدر آباد

ایف آئی اے کے اختیارات میں توسیع، ویزا کے باوجود سخت جانچ لازمی

حکومت پاکستان نے بیرونِ ملک روانگی کے عمل کو مزید سخت بنانے کے لیے Federal Investigation Agency (ایف آئی اے) کے امیگریشن اختیارات میں اضافہ کر دیا ہے جس کے تحت اب صرف ویزا کی موجودگی مسافر کی روانگی کے لیے کافی نہیں سمجھی جائے گی۔ وزارت داخلہ کے مطابق بیرونِ ملک جانے والے ہر مسافر کو نہ صرف ویزا بلکہ اپنا سفر کا مقصد، ریٹرن ٹکٹ، ہوٹل بکنگ، بینک اکاؤنٹ یا دیگر مالی ثبوت اور سفر کی معقول وجہ پیش کرنا ہوگی تاکہ امیگریشن حکام مکمل مطمئن ہوں۔ اگر مسافر ان میں سے کسی بھی محک نہ ہو پایا یا سفر کا مقصد واضح نہ کر سکا تو اسے سروس ناقابل قبول قرار دے کر پرواز سے آف لوڈ کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملک سے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے روز افزوں خطرے کو روکنا ہے۔ گذشتہ سال یورپ میں پاکستانی ہجرت خواہوں کی کشتی حادثات کے بعد ایف آئی اے نے مختلف ایئرپورٹس پر سخت سکریننگ اور بائیومیٹرک تصدیق کا نظام متعارف کرایا تھا، اور اب اس کو قانونی طور پر مضبوط کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں اور ان کے نمائندہ اداروں نے احتجاج کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ بعض اوقات ویزا اور تمام دستاویزات درست ہونے کے باوجود معمولی سی خامی پر لوگوں کو آف لوڈ کیا گیا، جس سے مزدوروں کو مالی نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز نے اس مسئلے پر نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ صرف قانونی دستاویزات رکھنے والے ورکرز کو بلاوجہ آف لوڈ نہ کیا جائے اور اگر کسی مسافر کو آف لوڈ کیا جائے تو اس کی وجہ واضح طور پر تحریری طور پر بتائی جائے۔ انہوں نے حکم دیا ہے کہ مستقبل میں ایسے غیر قانونی اقدامات نہ ہوں اور بیرونِ ملک کام کیلئے جانے والے شہریوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔ اور ایف آئی اے نے کہا ہے کہ مسافروں کو صرف انہی صورتوں میں روکا جائے گا جب ان کی دستاویزات جعلی ہوں یا انہیں اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ سمجھا جائے۔

اس نئے حکم سے قانونی مسافروں کے تحفظ اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کی بحالی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے مگر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے بیرونِ ملک جانے والے عادی تارکِ وطن اور مزدور طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حوالہ: دنیا نیوز، اردو پوائنٹ و دیگر ذرائع رپورٹس

تازہ ترین پوسٹ ....

ایک تبصرہ چھوڑیں

اوپر تک سکرول کریں۔