اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سختی سے تردید کی ہے کہ پاکستان نے افغانستان پر کوئی حملہ کیا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ “کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہے جو پاکستان کو امریکی ڈرون حملوں یا دیگر کسی فورس کو افغان سرزمین پر کارروائی کی اجازت دیتا ہو” اور یہ دعوے افغان طالبان کے سیاسی بیان بازی کا حصہ ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سرحدی سیکیورٹی اور عسکری اقدامات پاکستان کی دفاعی ترجمانی کا حصہ ہیں، نہ کہ جارحیت۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کل عوام اور حکومت کی توجہ دہشت گردی کے مالی اور علاقائی نیٹ ورکس پر ہے، جن میں افغان سرزمین استعمال کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں، اور پاکستان اس معاملے پر واضح موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ جنرل چوہدری نے یہ بھی نشاندہی کی کہ افغان طالبان اور برخی دیگر عناصر پاکستان کے خلاف مذمت کرنے کی سیاست چلا رہے ہیں، حالانکہ پاکستان اندرونی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ملحقہ ملک کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا چاہتا ہے۔