نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ماحولیاتی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ جانے کے باوجود سرکاری رپورٹ میں ہوا کو “قابلِ قبول” قرار دینے پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات اور اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کر کے فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے دہلی میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) مسلسل 450 سے تجاوز کر گیا، جو عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک سطح ہے۔ اس کے باوجود وزارتِ ماحولیات کی جانب سے جاری کردہ سرکاری رپورٹ میں شہر کی فضا کو “درمیانی درجے کی آلودہ” قرار دیا گیا، جس پر شہریوں اور ماہرین نے سوالات اٹھا دیے۔
رپورٹس کے مطابق دہلی کے کئی مانیٹرنگ اسٹیشنز سے حاصل شدہ ڈیٹا کو یا تو غائب کر دیا گیا یا اس میں رد و بدل کی گئی۔ ماحولیاتی تنظیموں نے اسے “ڈیٹا فراڈ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت حقیقت چھپا کر عوام کی جانوں سے کھیل رہی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت نے “صاف بھارت” کے نعرے کے برعکس دہلی کو “زہر آلود شہر” بنا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر صنعتی اخراج، گاڑیوں کے دھوئیں اور فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے پر سخت اقدامات نہ کیے گئے تو دہلی میں سانس لینا مزید مشکل ہو جائے گا۔