راولپنڈی: ذرائع کے مطابق حکومت اور متعلقہ اداروں نے بانی پاکستان تحریک انصاف کو اڈیالہ جیل سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے انتظامات خاموشی سے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فیصلہ اعلیٰ سطح کی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے جس میں سیکیورٹی، قانونی پہلوؤں اور سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق قیدی کی منتقلی یا رہائی کے عمل کو خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے یا عوامی ہنگامہ آرائی سے بچا جا سکے۔ جیل کے اندر اور باہر اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں جبکہ حساس اداروں کی ٹیمیں بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدام عدالتی احکامات کے تحت ہے تو ممکنہ طور پر بانی پی ٹی آئی کو کسی اور مقام پر منتقل کیا جا سکتا ہے یا مخصوص شرائط کے تحت رہائی دی جا سکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں باضابطہ اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد ملکی سیاسی منظرنامے میں نئی بحث چھڑ سکتی ہے کیونکہ مخالف جماعتیں اس اقدام کو سیاسی رعایت اور حکومتی دباؤ کا نتیجہ قرار دے سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامیوں میں بھی یہ خبر تیزی سے پھیل رہی ہے اور ان کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے حکام نے مزید حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔
حوالہ: مقامی میڈیا رپورٹس، جیو نیوز، دنیا نیوز، ڈان نیوز۔