چینی کمپنی کا تیار کردہ دنیا کا پہلا اے آئی ماڈل زمین کے مدار میں فعال

browse cricket leagues

  • پی ایس ایل
  • آئی پی ایل
  • بی پی ایل
  • بی پی ایل
  • سی پی ایل
  • ایل پی ایل

browse sports

  • کرکٹ
  • فٹ بال
  • ہاکی
  • ٹینس
  • ٹیبل ٹینس
  • سکواش
  • باکسنگ
  • والی بال
  • بیڈمنٹن

Browse Pakistan News

  • لاہور
  • کراچی
  • اسلام آباد
  • ملتان
  • فیصل آباد
  • راولپنڈی
  • گجرانوالہ
  • پشاور
  • حیدر آباد

چینی کمپنی کا تیار کردہ دنیا کا پہلا اے آئی ماڈل زمین کے مدار میں فعال

چین کی علی بابا گروپ سے تعلق رکھنے والی کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کا پہلا جنرل اے آئی ماڈل تیار کیا ہے جو زمین کے مدار میں فعال ہے۔ اس ماڈل کا نام ‘کیون 3’ ہے جسے نومبر 2025 میں سیٹلائٹ کے ذریعے زمین کے مدار میں نصب کیا گیا تھا۔ یہ سیٹلائٹ اصل میں مئی 2025 میں چینی ایرو اسپیس کمپنی ‘ایڈ اسپیس ٹیکنالوجی’ کے ‘اسٹار کمپیوٹ پراجیکٹ’ کے تحت خلا میں بھیجا گیا تھا جس کا مقصد خلا میں اے آئی انٹرفیس اور ٹریننگ کو معاونت فراہم کرنا تھا۔ یہ ماڈل خلا میں موجودگی کے باوع اپنی کارکردگی میں سست نہیں ہے؛ رپورٹس کے مطابق اس سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات یا نتائج فراہم کرنے کا عمل محض دو منٹ کے اندر مکمل ہو جاتا ہے۔ ایڈ اسپیس ٹیکنالوجی کا طویل المدتی منصوبہ دنیا کے پہلے اے آئی کمپیوٹنگ سیٹلائٹس کے نیٹ ورک کو تعمیر کرنا ہے، جس کے تحت 2035 تک زمین کے مدار میں 2400 انٹرفیس سیٹلائٹس اور 400 ٹریننگ یونٹس بھیجنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس پیشرفت نے عالمی سطح پر خلا میں ڈیٹا پروسیسنگ اور مصنوعی ذہانت کے نیٹ ورک قائم کرنے کی دوڑ کو تیز کر دیا ہے، جس میں ایلون مسک کی ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اسپیس ایکس کا موجودہ سیٹلائٹ نیٹ ورک اس دوڑ میں انہیں ایک واضح فائدہ فراہم کرتا ہے۔

تازہ ترین پوسٹ ....

ایک تبصرہ چھوڑیں

اوپر تک سکرول کریں۔