پاکستان کی سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت میں توسیع کی درخواست

browse cricket leagues

  • پی ایس ایل
  • آئی پی ایل
  • بی پی ایل
  • بی پی ایل
  • سی پی ایل
  • ایل پی ایل

browse sports

  • کرکٹ
  • فٹ بال
  • ہاکی
  • ٹینس
  • ٹیبل ٹینس
  • سکواش
  • باکسنگ
  • والی بال
  • بیڈمنٹن

Browse Pakistan News

  • لاہور
  • کراچی
  • اسلام آباد
  • ملتان
  • فیصل آباد
  • راولپنڈی
  • گجرانوالہ
  • پشاور
  • حیدر آباد

پاکستان کی سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت میں توسیع کی درخواست

پاکستان نے سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت کو مزید ایک سال کے لیے بڑھانے کی باقاعدہ درخواست کردی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ کریڈٹ ٹائم کو ایک سال سے بڑھا کر دو سال یا اس سے زیادہ کیا جائے تاکہ بیلنس آف پیمنٹ کا پریشر کم ہو اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ میں کمی لائی جاسکے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی حکام کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ ادھار تیل کی سہولت جاری رکھی جائے اور ادائیگیوں کا دورانیہ بھی بڑھایا جائے جس پر حکومت کی معاشی ٹیم اور سعودی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے جو کہ جلد فائنل ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مؤخر ادائیگیوں پر ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی سعودی آئل فیسیلیٹی رواں ماہ فروری 2026 تک مؤثر رہے گی جس کے تحت ماہانہ دس کروڑ ڈالر پاکستان کو ملتے ہیں اور یہ معاہدہ گزشتہ سال کے آغاز میں شروع ہوا تھا۔ سعودی فنڈز فار ڈویلپمنٹ کی جانب سے فروری 2025 میں دس کروڑ ڈالر کی پہلی قسط ملی تھی اور ہر ماہ کے دوران قسطوں میں رقم موصول ہوئی جبکہ فروری 2026 میں ملنے والی قسط موجودہ معاہدے کے تحت آخری قسط ہوگی اور آئندہ ماہ مارچ 2026 سے پاکستان قرض کی واپسی شروع کر دے گا۔ معاشی ٹیم کا ایک اہم وفد سعودی عرب کے دورے پر ہے جس کا مقصد پاک سعودی تعلقات میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مختلف منصوبوں پر سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت کرنا ہے۔ سعودی عرب کے پانچ ارب ڈالر کے ڈیپازٹس پاکستان کے پاس موجود ہیں جن میں سے دو ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کی میعاد دسمبر 2025 میں مکمل ہونے پر مزید ایک سال کے لیے رول اوور کرائی جا چکی ہے جبکہ تین ارب ڈالر کی میعاد جون 2026 میں مکمل ہوگی اور ان ڈیپازٹس کی میعاد بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ پہلے ہی بات چیت ہو رہی ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق تین ارب ڈالر کا رول اوور کرانے میں ابھی وقت باقی ہے لیکن رول اوور میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے اور اپنے وقت پر جب ڈیپازٹ میچور ہوگا تو رول اوور ہوتا رہے گا۔ ادھار تیل کی سہولت کا مقصد بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی لانا ہے کیونکہ آئی ایم ایف سے ایکسٹنڈڈ فنڈز فیسیلیٹی قرض معاہدے کے وقت اس سہولت کو شامل کیا گیا تھا اور پاکستان کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف قرض پروگرام میں رہتے ہوئے سعودی عرب سے پانچ ارب ڈالر قرض رول اوور اور مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت حاصل کرنے کے لیے معاہدے کو جاری رکھا جائے۔

تازہ ترین پوسٹ ....

ایک تبصرہ چھوڑیں

اوپر تک سکرول کریں۔