آسٹریلیا کے ٹیسٹ اور ون ڈے کپتان پیٹ کمنز نے آنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے اپنی دستبرداری کی اصل وجہ بیان کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمر کی موجودہ انجری سے صحت یاب ہونے کے لیے ڈاکٹروں نے جو اضافی وقت تجویز کیا ہے اور آگے آنے والے اٹھارہ ماہ کے انتہائی مصروف شیڈول میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی اپنی ترجیح ہی ان کے اس فیصلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
کمنز نے بتایا کہ کرکٹ آسٹریلیا کو اندازہ تھا کہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے بعد انہیں چار سے آٹھ ہفتے درکار ہوں گے، لیکن تازہ اسکین کے بعد ڈاکٹروں نے مزید آرام کا مشورہ دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ آنے والے اٹھارہ مہینوں میں وہ صرف انجری کے پیچھے بھاگتے رہیں، کیونکہ اگر اب احتیاط نہ کی گئی تو بعد میں مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ آنے والے دور میں آسٹریلیا کا شیڈول بہت سخت ہے جس میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم ٹیسٹ، جنوبی افریقہ کا دورہ، نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز اور پھر 2027 میں بھارت کا پانچ ٹیسٹوں کا دورہ، ایشز، ون ڈے ورلڈ کپ اور ممکنہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل شامل ہیں۔ ان تمام تقاریب میں بہتر کارکردگی کے لیے انہوں نے فی الحال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے دوری کو ترجیح دی ہے۔ یاد رہے کہ ان کی جگہ فاسٹ بولر بین ڈوارشوس کو آسٹریلوی ٹی20 ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔