سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ڈینٹل کلینک کو اکتوبر 2024 میں رہائشی علاقے میں تجارتی سرگرمیاں کرنے کی بنیاد پر سیل کر دیا تھا لیکن اس کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے نومبر 2024 میں اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کلینک کو فوری ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ ایس بی سی اے نے کراچی کی سندھی مسلم کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے بلاک بی مکان نمبر 23 بی میں کارروائی کرتے ہوئے رہائشی بنگلے میں قائم علوی ڈینٹل کلینک کو سیل کیا تھا اور اس کارروائی میں پولیس کی بھاری نفری نے بھی حصہ لیا تھا۔ ایس بی سی اے کے ترجمان نے اس وقت کہا تھا کہ کلینک رہائشی مکان میں ہونے کی وجہ سے سیل کیا گیا ہے اور یہ ایک معمول کی کارروائی تھی جو پورے شہر میں کی جا رہی ہے۔ سابق صدر کی اہلیہ ثمینہ علوی اور بیٹے اواب علوی نے فوری طور پر سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ کلینک سیل کرنے کی وجہ محض سیاسی انتقام ہے اور ڈاکٹر عارف علوی کو صرف سیاسی بنیادوں پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ظفر راجپوت نے درخواست کی سماعت کے بعد تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایس بی سی اے نے کلینک سیل کرنے سے پہلے درخواست گزار کو نوٹس نہیں دیا اور نہ ہی صفائی کا موقع فراہم کیا جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس لیے یہ کارروائی کالعدم قرار دی جاتی ہے۔ عدالت نے ایس بی سی اے کو حکم دیا کہ وہ عارف علوی کے ڈینٹل کلینک کو فوری ڈی سیل کرے اور درخواست گزار کو ہدایت دی کہ وہ پلاٹ کی حیثیت کی تبدیلی کے لیے 10 روز میں ایس بی سی اے سے رجوع کرے جبکہ ایس بی سی اے کو حکم دیا گیا کہ وہ درخواست پر 45 روز میں فیصلہ کرے۔ تاہم بعد میں عدالتی احکامات کے باوجود ایس بی سی اے کی جانب سے کلینک ڈی سیل نہ کرنے پر اہلیہ ڈاکٹر عارف علوی نے ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی اور عدالت نے دسمبر 2024 میں توہین عدالت کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
حوالہ: جیو اردو