امریکا نے وینزویلا کا تیل باضابطہ طور پر بیچنا شروع کردیا

browse cricket leagues

  • پی ایس ایل
  • آئی پی ایل
  • بی پی ایل
  • بی پی ایل
  • سی پی ایل
  • ایل پی ایل

browse sports

  • کرکٹ
  • فٹ بال
  • ہاکی
  • ٹینس
  • ٹیبل ٹینس
  • سکواش
  • باکسنگ
  • والی بال
  • بیڈمنٹن

Browse Pakistan News

  • لاہور
  • کراچی
  • اسلام آباد
  • ملتان
  • فیصل آباد
  • راولپنڈی
  • گجرانوالہ
  • پشاور
  • حیدر آباد

امریکا نے وینزویلا کا تیل باضابطہ طور پر بیچنا شروع کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکا کو 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا تیل فراہم کرے گی اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم امریکی حکومت کے کنٹرول میں ہوگی جسے امریکا اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ تیل مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جائے گا اور امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اس معاہدے پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ ابتدائی طور پر یہ تیل ان کارگو جہازوں سے امریکا منتقل کیا جائے گا جو پہلے چین کے لیے مختص تھے۔ امریکی صدر کے اس اعلان کو اس بات کا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ وینزویلا کی عبوری حکومت امریکی دباؤ کے تحت اپنی تیل کی صنعت امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے پر آمادہ ہو رہی ہے اور امریکا وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وینزویلا کے پاس کروڑوں بیرل تیل ٹینکروں اور ذخیرہ گاہوں میں موجود ہے جو دسمبر کے وسط سے عائد امریکی پابندیوں کے باعث برآمد نہیں ہو سکا اور یہ پابندیاں اس دباؤ کا حصہ تھیں جو بالآخر امریکی فوجی کارروائی اور سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر منتج ہوئیں۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں امریکی آئل کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر غور کیا جا رہا ہے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور وینزویلا کے پاس مل کر دنیا کے تیل کے ذخائر کا 55 فیصت حصہ ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے تیل پر قبضہ نہ کرتے تو روس یا چین وہاں پہنچ جاتے اور اب چین اور روس ہم سے وینزویلا کا تیل خرید سکتے ہیں کیونکہ امریکا اسے کنٹرول کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا میں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور تیل کا کاروبار فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا جبکہ امریکی آئل کمپنیاں وہاں کی انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنائیں گی اور تیل کے تاجروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ تاہم توانائی کے قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں تیل ریاست کی ملکیت ہے اور غیر ملکی کمپنیاں صرف لائسنس کے تحت تیل نکال سکتی ہیں جبکہ وینزویلا کی تیل کی پیداوار کی مکمل بحالی میں 10 سال تک لگ سکتے ہیں اور سیاسی استحکام کے بغیر غیر ملکی کمپنیاں بڑی سرمایہ کاری سے گریز کریں گی۔

حوالہ: ایکسپریس اردو

تازہ ترین پوسٹ ....

ایک تبصرہ چھوڑیں

اوپر تک سکرول کریں۔