امریکی ٹی وی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران پر زوردار اور فیصلہ کن حملہ چاہتے ہیں، جس کا مقصد طویل جنگ کے بجائے مختصر مگر مؤثر عسکری کارروائی کرنا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے فوری دفاعی تیاریوں کا حکم دے دیا ہے۔ شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں عوامی بم پناہ گاہیں کھول دی گئی ہیں۔ اسرائیل کو توقع ہے کہ امریکا ایران پر حملوں سے پہلے وارننگ جاری کرے گا۔
اس خطرے کی فضا میں جرمن ائیرلائن نے احتیاطی طور پر اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں 19 جنوری تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب ایران میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کئی یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران فوری چھوڑنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ امریکا کے بعد، اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے بھی اپنے شہریوں کو ایران سے انخلا کی ہدایت کی ہے۔ اٹلی کی وزارت خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں جن کی اکثریت تہران میں ہے۔ اسی طرح برطانیہ نے ایران سے اپنے تمام سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے اور برطانوی سفیر کو بھی ملک سے نکال لیا گیا ہے۔
ماخذ: جیو نیوز اردو