پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے مراکش کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر باقاعدہ دستخط کیے گئے ہیں جو پاکستان اور مراکش کے باہمی دفاعی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ خواجہ آصف نے مراکش کی حکومت کے سربراہ کے ماتحت قومی دفاعی انتظامیہ کے انچارج وزیر مملکت عبداللطیف لودیعی سے ملاقات کی اور دونوں جانب سے وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے جن میں باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گہرا تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا ہے اور اس معاہدے کے تحت مستقل دفاعی روابط کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک قائم ہوگا۔ معاہدے کے تحت دفاع اور سلامتی سے متعلق مختلف شعبوں میں مستقبل کے تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جن میں عسکری تربیت، تجربات کا تبادلہ، استعداد کار میں اضافہ اور دیگر مشترکہ اقدامات شامل ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے دورے کے دوران مملکت مراکش کے وزیر خارجہ، افریقی تعاون اور مراکشی تارکین وطن ناصر بوریطا سے بھی علیحدہ ملاقات کی اور دونوں فریقین کو دوطرفہ اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع ملا جس میں امن، استحکام اور تعاون کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ملاقاتوں کے اختتام پر دونوں جانب سے تحائف کا تبادلہ کیا گیا اور خواجہ آصف نے مراکشی وزیر دفاع کو پاکستان میں تیار کردہ فٹ بال بھی پیش کیا جو پاکستانی صنعتی صلاحیت کا عکاس تھا۔ ملاقاتوں سے قبل وفاقی وزیر دفاع نے بادشاہ محمد پنجم کے مزار کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور مراکش کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کا مظہر ہے اور دفاع، سلامتی سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ دینے کی مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتا ہے جو دونوں اسلامی ممالک کی باہمی یکجہتی کو مضبوط بنائے گا۔
حوالہ: ایکسپریس اردو