پاکستان سپر لیگ کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھا گیا ہے جب اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقدہ شاندار نیلامی کی تقریب میں ساتویں اور آٹھویں فرنچائز کی ملکیت کامیاب بولی لگانے والوں کو منتقل کر دی گئی۔ ایف کے ایس گروپ نے ساتویں فرنچائز کی ملکیت 1 ارب 75 کروڑ روپے کی بولی لگا کر حاصل کی اور اپنی ٹیم کا نام حیدرآباد رکھنے کا اعلان کیا جبکہ اوزیڈ ڈیولپرز نے پی ایس ایل کی تاریخ کی مہنگی ترین ٹیم 1 ارب 85 کروڑ روپے میں خرید کر سب کو حیران کر دیا اور اپنی ٹیم کا نام سیالکوٹ فائنل کیا۔ ساتویں فرنچائز کی نیلامی کے لیے اولین رقم ایک ارب 10 کروڑ روپے رکھی گئی تھی اور آئی ٹو سی گروپ نے ایک ارب 55 کروڑ روپے کی بولی دی لیکن آخر میں ایف کے ایس گروپ نے ایک ارب 75 کروڑ روپے کی بولی لگا کر ٹیم اپنے نام کر لی۔ آٹھویں ٹیم کی نیلامی میں تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے جب اوزیڈ ڈیولپرز نے بولی میں بڑی چھلانگ لگاتے ہوئے ایک ارب 85 کروڑ روپے کی کامیاب بولی لگا دی اور یہ پی ایس ایل کی اب تک کی مہنگی ترین ٹیم بن گئی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے تقریب کے بعد اعلان کیا کہ دونوں ٹیمیں 10 سالہ معاہدے کے تحت نیلام کی گئی ہیں اور ان کی سالانہ فیس بالترتیب 175 کروڑ اور 185 کروڑ روپے ہوگی جو ہر سال ادا کرنی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی نیلامی سے پی سی بی کو دس سالہ مدت میں تقریباً 36 ارب روپے کی آمدنی ہوگی جو پاکستان میں کھیلوں کے فروغ پر خرچ کی جائے گی۔ اوزیڈ ڈیولپرز کے حمزہ مجید نے ریکارڈ بولی کے حوالے سے بتایا کہ پہلے سے منصوبہ بندی تھی لیکن فیصلہ عین وقت پر ہوا اور بجٹ سے تھوڑا زیادہ گیا لیکن انہیں آج جیت کر جانا تھا۔ پی ایس ایل سیزن 11 کا انعقاد 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک ہوگا اور اب لیگ میں کراچی کنگز، پشاور زلمی، لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، ملتان سلطانز کے ساتھ حیدرآباد اور سیالکوٹ کی نئی ٹیمیں بھی شامل ہوں گی جس سے لیگ کی دلچسپ اور مقابلہ مزید بڑھ جائے گا۔
حوالہ: ڈان نیوز