لاہور شہر میں فضائی آلودگی کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات جاری ہیں لیکن سرحد پار بھارتی پنجاب سے آنے والی آلودہ ہواؤں کی وجہ سے شہر کا فضائی معیار مسلسل متاثر ہو رہا ہے اور ماحولیاتی حکام کو اضافی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک جنوب مشرقی ہوائیں بھارتی پنجاب کو اپ ونڈ رکھتی ہیں جس کے نتیجے میں امرتسر، جالندھر، لدھیانہ اور پٹیالہ کے صنعتی علاقوں کی آلودگی براہ راست لاہور تک منتقل ہو رہی ہے اور یہ عمل روزانہ دہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاہور کی اپنی مقامی آلودگی اس وقت کنٹرول میں ہے اور تمام مقامی آلودگی کے محرکات پر ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی مسلسل اور کڑی نگرانی موجود ہے جبکہ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 153 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موسمی حالات کے مطابق ہلکی ہوائیں، زیادہ بادل اور مستحکم فضائی دباؤ آلودگی کے پھیلاؤ میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور آلودہ ذرات زمین کے قریب پھنس جاتے ہیں۔
محکمہ ماحولیات کی جانب سے جاری کردہ پیشن گوئی کے مطابق صبح سے دوپہر تک کمزور مشرقی ہوائیں سرحد پار سے پی ایم 2.5 کے خطرناک ذرات کی منتقلی جاری رکھیں گی جس کے باعث فضائی معیار مزید خراب ہو سکتا ہے تاہم دوپہر 2 سے 5 بجے کے دوران ہوا کی رفتار میں بہتری اور حکومتی اقدامات کے مشترکہ اثر سے ایئر کوالٹی انڈیکس میں وقتی بہتری متوقع ہے۔ سورج نکلنے کے بعد درجہ حرارت میں اضافے سے فضائی مکسنگ بہتر ہونے اور آلودہ ذرات میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سموگ ایکشن پلان پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھا جا رہا ہے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور صنعتی یونٹس کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے جبکہ ماحولیاتی سکواڈ فیلڈ میں مکمل طور پر متحرک ہے۔ چیکنگ پوائنٹس پر گاڑیوں کے اخراج کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور سینکڑوں چالان اور وارننگ نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ اینٹوں کے بھٹوں، فیکٹریوں اور کمرشل یونٹس کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ سینئر صوبائی وزیر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال ضرور کریں جبکہ حساس طبیعت کے افراد، بچوں اور بزرگوں کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر لازمی اختیار کریں۔
حوالہ: لاہور نیوز