امریکا کا آئندہ ہفتے وینزویلا پر عائد پابندیاں اٹھانے کا اعلان
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا کے تیل پر عائد پابندیاں آئندہ ہفتے کے اوائل تک ہٹانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو منشیات کی سرپرستی کے الزام میں گرفتار کرکے امریکا منتقل کر دیا تھا اور اب واشنگٹن وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ امریکی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ امریکا ان پابندیوں کو ختم کر رہا ہے جو وینزویلا کے تیل کی فروخت پر عائد تھیں اور یہ فیصلہ وینزویلا کی جانب سے تعاون کے رویے کے بعد لیا گیا ہے۔ بیسینٹ نے مزید کہا کہ وینزویلا پر عائد دیگر پابندیاں بھی آئندہ ہفتے کے اوائل میں ہٹائی جا سکتی ہیں تاہم اس بارے میں حتمی اعلان جلد کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ وینزویلا اب امریکا کو تین کروڑ سے پانچ کروڑ بیرل خام تیل فراہم کرے گا اور امریکی آئل کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری کریں گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم امریکی صدر کے کنٹرول میں رہے گی اور اسے صرف امریکی ساختہ مصنوعات کی خریداری پر خرچ کیا جائے گا۔ امریکی وزیر انرجی کریس رائٹ نے بھی تصدیق کی کہ واشنگٹن وینزویلا کے تیل کی فروخت کو کنٹرول کرے گا اور تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی دولت امریکا کے زیر کنٹرول کھاتوں میں جمع کی جائے گی۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ صورتحال چین کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ وینزویلا اپنی تقریباً اسی فیصد تیل برآمدات چین کو کرتا ہے۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں جو تین سو تین ارب بیرل سے زائد بتائے جاتے ہیں جو سعودی عرب سے بھی زیادہ ہیں۔ امریکا نے گزشتہ دنوں وینزویلا پر فوجی حملہ کرکے صدر مادورو کو گرفتار کیا تھا اور اب وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔