رمضان پیکج کی امداد ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے دینے کی ہدایت

browse cricket leagues

  • پی ایس ایل
  • آئی پی ایل
  • بی پی ایل
  • بی پی ایل
  • سی پی ایل
  • ایل پی ایل

browse sports

  • کرکٹ
  • فٹ بال
  • ہاکی
  • ٹینس
  • ٹیبل ٹینس
  • سکواش
  • باکسنگ
  • والی بال
  • بیڈمنٹن

Browse Pakistan News

  • لاہور
  • کراچی
  • اسلام آباد
  • ملتان
  • فیصل آباد
  • راولپنڈی
  • گجرانوالہ
  • پشاور
  • حیدر آباد

رمضان پیکج کی امداد ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے دینے کی ہدایت

وزیراعظم کی اس سال بھی رمضان پیکج کی امدادی رقوم کی تقسیم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کرنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ رمضان المبارک کے لیے رمضان ریلیف پیکج کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح ہدایت جاری کی ہے کہ اس سال بھی رمضان پیکج کے تحت مالی امداد اور رقوم کی تقسیم خصوصی طور پر ڈیجیٹل والٹس کے جدید نظام کے ذریعے کی جائے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل والٹس کے استعمال سے مستحقین کے وقار اور عزت نفس کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور لوگوں کو لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی امداد حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے امداد کی تقسیم سے ملک میں کیش لیس معیشت کی طرف منتقلی میں بھی مدد ملے گی اور یہ اقدام ڈیجیٹل اکانومی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شمولیت سے اس عمل میں مزید آسانی ہوگی اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے گی جس سے بدعنوانی اور انسانی مداخلت کی گنجائش ختم ہو جائے گی۔

شہباز شریف نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سوشل پروٹیکشن والٹ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت مستحق افراد کو سم کارڈز فراہم کیے جائیں گے اور مارچ 2026 سے امدادی ادائیگیاں ان سمز کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹل طور پر تقسیم کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے رمضان پیکج کے ذریعے کم آمدنی والے گھرانوں کو رعایتی نرخوں پر اشیائے خوردونوش فراہم کرنے کا منظم نظام متعارف کرایا ہے اور یوٹیلٹی اسٹورز کے سابقہ ماڈل میں جو بدانتظامی اور بے ضابطگیاں تھیں ان کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو آئندہ رمضان کے لیے ایک بہتر اور مزید جامع پیکج تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں کے لیے مالی امداد اور سماجی تحفظ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ وزیراعظم نے وزارتوں اور ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کم آمدنی والے زیادہ سے زیادہ گھرانوں کو امدادی پروگرام میں شامل کیا جائے اور عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور جدید مانیٹرنگ سسٹم بنایا جائے۔

حوالہ: امت نیوز

تازہ ترین پوسٹ ....

ایک تبصرہ چھوڑیں

اوپر تک سکرول کریں۔