صدر ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکا کو 66 عالمی تنظیموں سے نکالنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز پر ایک اہم اور بڑے پیمانے پر ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے امریکا کو 66 بین الاقوامی اور عالمی تنظیموں سے علیحدہ کرنے کا حیران کن اعلان کر دیا ہے جو عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ عالمی تنظیمیں امریکا کے قومی مفادات کی بجائے اپنے مخصوص اور ذاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف تھیں جس کی وجہ سے امریکی خودمختاری، معاشی خوشحالی اور سیاسی آزادی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ تنظیمیں امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم خرچ کرتے ہوئے ایسی پالیسیاں بنا رہی تھیں جو امریکا کے قومی مفادات سے متصادم تھیں اور اس لیے ان سے علیحدگی ایک ضروری قدم تھا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان عالمی تنظیموں سے علیحدگی کا فیصلہ امریکا کے قومی مفادات کے تحفظ اور امریکی عوام کی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر اور انتہائی ضروری تھا اور یہ فیصلہ امریکا فرسٹ کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں بھی کئی بین الاقوامی معاہدوں اور تنظیموں سے امریکا کو الگ کیا تھا اور اب دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے یہ بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے عالمی سیاست اور معاشیات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور بین الاقوامی تعلقات میں نئے رجحانات سامنے آئیں گے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کی قوم پرست اور تنہائی پسندانہ پالیسیوں کا حصہ ہے جس میں وہ امریکا کو عالمی معاہدوں اور اتحادوں سے الگ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ امریکی حکمرانی مکمل طور پر آزاد اور خودمختار رہ سکے۔
حوالہ: پبلک نیوز