حکومتِ پاکستان نے بجلی کے صارفین کو مالی ریلیف دینے کا ایک نواں اور منظم منصوبہ بنایا ہے۔ اس کا دارومدار پاور سیکٹر سے وصول ہونے والی ایک نئی لیوی پر ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی کابینہ نے “کیپٹو پاور لیوی” کی مد سے جمع ہونے والی رقم کو بجلی کے صارفین تک ریلیف کی صورت میں منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
لیوی کا تصور: یہ حکومت کی جانب سے کیپٹو پاور پلانٹس (جو چوٹی کے اوقات میں بجلی بناتے ہیں) پر عائد کی جانے والی ایک لیوی ہے۔مرحلہ وار نفاذ: اس لیوی کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا: فوری: 5 فیصد,دوسرا مرحلہ: 10 فیصد,فروری 2026 میں: 15 فیصد,اگست 2026 تک: 20 فیصد ریلیف کا طریقہ کار: ان پاور پلانٹس سے ماہانہ جمع ہونے والی لیوی کا فائدہ صارفین کو ہر دو ماہ کے وقفے سے، ان کے بجلی کے بل میں کمی کی صورت میں منتقل کیا جائے گا۔لیوی کا استعمال: لیوی سے حاصل ہونے والی پوری رقم پاور سیکٹر کی تمام کیٹگریز (ڈومیسٹک، صنعتی، تجارتی) کے صارفین کے لیے ٹیرف کم کرنے پر خرچ کی جائے گی۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ جو کیپٹو پاور پلانٹ لیوی ادا کرنے میں مستقل ڈیفالٹ کرے گا، اسے گیس کی فراہمی منقطع کر دی جائے گی۔ ہر پلانٹ اپنے استعمال کردہ گیس یا LNG پر حکومت کو لیوی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
ماخذ: جیو نیوز اردو