سخت سردی کے آغاز کے ساتھ فضائی آلودگی اور دھند — یعنی اسموگ — میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، اور وزارت قومی صحت نے شہریوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ خشک سرد موسم اور کم ہواؤں کی وجہ سے فضا میں آلودہ ذرات جم سکتے ہیں، جو خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور پھیپھڑوں یا دل کی بیماری رکھنے والوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایڈوائزری کے تحت عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں، دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں، اگر باہر جانا ضروری ہو تو ماسک استعمال کریں، اور فضائی آلودگی والے علاقوں سے دور رہیں۔ آنکھوں میں جلن ہو تو صاف پانی سے دھوئیں، سانس لینے میں دشواری یا سینے میں تکلیف محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
حال ہی میں قومی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ اسموگ اور سرد موسم کا امتزاج پھیپھڑوں کی بیماریوں، دمہ، اور سانس کی تکالیف میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، فضائی آلودگی کی وجہ سے دل کی بیماریاں اور آنکھوں کے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔ پنجاب اور دیگر شہروں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) خطرناک حد تک پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے پیش نظر صوبائی حکومت نے صنعتی وحدتوں اور فضائی آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کی نگرانی اور کنٹرول سخت کر دیا ہے۔
یہ ایڈوائزری خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جو گرد و نواح کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں یا جنہیں پھیپھڑوں، دمہ یا دل کی بیماریاں لاحق ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر شہری احتیاط نہ کریں تو اسموگ کی موجودگی طویل مدتی صحت کے مسائل پیدا کر سکتی ہے، اور اس موسم میں ہوا کی کوالٹی کا باقاعدہ جائزہ لینا لازمی ہے۔
اس صورت حال میں عوامی و حکومتی اداروں کو چاہیے کہ ایک مربوط حکمتِ عملی ترتیب دیں تاکہ فیکٹریوں، گاڑیوں اور کھاد جلانے جیسے آلودگی کے ذرائع پر قابو پایا جائے، تاکہ سردیوں میں اسموگ کے مضر اثرات سے عوام کی صحت محفوظ رہے۔
حوالہ: آج ٹی وی، سماء نیوز، دنیا نیوز