لاہور میں بحریہ آرچرڈ، بحریہ ای ایم ایس اور بحریہ نشیمن سمیت بحریہ ٹاؤن کے متعدد رہائشی علاقوں میں بجلی کی بندش نے شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق Lahore Electric Supply Company (لیسکو) نے ان علاقوں کی بجلی منقطع کر دی، جس کی بنیادی وجہ سوسائٹی کی جانب سے واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونا بتائی گئی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں رات تقریباً 9 بجے کے بعد کئی گھنٹوں تک رہائشی مکمل اندھیرے میں محصور رہے، جس سے گھریلو اور کاروباری سرگرمیوں میں شدید خلل پیدا ہوا۔لیسکو کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کی طرف 60 کروڑ کے بقایا بل ہیں۔جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم باقائدگی سے بل کی ادائیگی کر رہے ہیں یہ بحریہ انتظامیہ کا کام ہے کہ لیسکو کو بروقت ادائیگی کریں۔
رہائشیوں نے بتایا کہ بجلی کی بندش کے باعث گھروں میں پانی کے نظام متاثر ہوئے، خواتین اور بچے مشکلات کا شکار رہے، اور کچھ کاروبار بند ہونے سے مالی نقصان بھی ہوا۔ کئی گھروں میں یو پی ایس اور جنریٹر استعمال کیے گئے مگر وہ بھی مکمل طور پر کام نہیں آئے۔ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے تصدیق کی کہ واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کے سبب یہ اقدام اٹھایا گیا، اور رہائشیوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر نوٹس لیں تاکہ ایک فرد کی عدم ادائیگی کی سزا پورے علاقے پر نہ لگے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو طویل مدتی بجلی کی بندش رہائشیوں کی روزمرہ زندگی، صحت، پانی کے نظام اور کاروبار پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ قانونی اور معاشی پہلوؤں کی بنیاد پر تجزیہ کرنے پر واضح ہوتا ہے کہ بجلی کے کنکشن منقطع کرنے کے فیصلے میں سوسائٹی کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ لیسکو کے قوانین اور رہائشیوں کے حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ تجزیہ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر واجبات کی ادائیگی میں شفافیت اور بروقت نظام موجود ہو تو اس طرح کے اقدامات سے بچا جا سکتا ہے اور رہائشیوں کو بے جا مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
ماہرین نے سوسائٹی اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ مشترکہ میٹنگز اور قانونی مشاورت کے ذریعے اس طرح کے مسائل کا مستقل حل تلاش کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی رہائشی کو بجلی کی غیر ضروری بندش کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ حکومت سے بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لے اور رہائشیوں کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنائے۔
حوالہ: ڈیلی پاکستان آن لائن، شہر لاہور رپورٹنگ