ہندوتوا کے تحت اقلیتوں پر تشدد اور نفرت انگیز اقدامات — تازہ رپورٹ 2025

browse cricket leagues

  • پی ایس ایل
  • آئی پی ایل
  • بی پی ایل
  • بی پی ایل
  • سی پی ایل
  • ایل پی ایل

browse sports

  • کرکٹ
  • فٹ بال
  • ہاکی
  • ٹینس
  • ٹیبل ٹینس
  • سکواش
  • باکسنگ
  • والی بال
  • بیڈمنٹن

Browse Pakistan News

  • لاہور
  • کراچی
  • اسلام آباد
  • ملتان
  • فیصل آباد
  • راولپنڈی
  • گجرانوالہ
  • پشاور
  • حیدر آباد

ہندوتوا کے تحت اقلیتوں پر تشدد اور نفرت انگیز اقدامات — تازہ رپورٹ 2025

حالیہ برسوں میں نریندر مودی کی قیادت میں برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس سے وابستہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سخت ہندو قوم پرست (ہندوتوا) نظریات کی بنیاد پر بھارت میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور پرتشدد واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 تک کے دوران تقریباً 947 واقعات، جن میں 602 تشدد یا نفرت انگیز جرائم اور 345 نفرت آمیز تقریریں شامل ہیں، درج ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا اور رپورٹ بتاتی ہے کہ 419 واقعات میں 1,460 مسلمان متاثر ہوئے جبکہ 85 واقعات میں 1,504 عیسائی متاثر ہوئے۔ تشدد کے واقعات میں 174 بار جسمانی تشدد ہوا اور کم از کم 29 افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعات عموماً ان ریاستوں میں پیش آئے جنہیں بی جے پی یا اس کے اتحادیوں کی حکومت ہے، مثلاً اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا اور اتراکھنڈ۔

ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال کو خطرے کی گھنٹی قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہندوتوا نظریہ اب صرف انتہا پسند تنظیموں تک محدود نہیں بلکہ اس نے ریاستی اداروں اور قانون سازی کے ذریعے ایک باقاعدہ پالیسی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ چند ماہ قبل منظور کیے گئے متنازعہ “وقف ترمیمی بل 2025” نے مسلمانوں کی جائیداد اور وقف املاک پر قبضے کے امکانات پیدا کیے ہیں جس سے اقلیتوں کے معاشی و قانونی حقوق مزید کمزور ہوئے ہیں۔

سماجی رہنماؤں اور اقلیتی برادریوں کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو بھارت میں سیکولر ازم، مذہبی آزادی اور سماجی ہم آہنگی کا تصور خطرے میں پڑ جائے گا۔ اقلیتی برادریوں نے بڑھتے ہوئے خوف، عدم تحفظ اور اپنے مستقبل کی مبہم صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حوالہ: Maktoob Media کی رپورٹ (Report documents 602 hate crimes, 345 hate speech incidents during first year of Modi’s third term)

تازہ ترین پوسٹ ....

ایک تبصرہ چھوڑیں

اوپر تک سکرول کریں۔