اسلام آباد: آج پاکستان اور روسی فیڈریشن کے درمیان اہم بین الحکومتی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور پروٹوکولز پر دستخط ہوں گے، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کو وسیع اور گہرا بنانا ہے۔ یہ دستخط 10ویں بین الحکومتی کمیشن اجلاس کے اختتام پر کیے جانے ہیں جس کی مشترکہ صدارت پاکستانی وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری اور روسی وزیر توانائی کریں گے۔ روسی وزیر توانائی گزشتہ روز اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور ان کی آمد کے ساتھ ہی افغانستان، توانائی، تجارت، سیکورٹی اور بین الاقوامی امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی راہیں دینے پر مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔
متوقع طور پر ان یادداشتوں میں توانائی، پاور پروجیکٹس، اقتصادی اور صنعتی تعاون، انفراسٹرکچر اور تجارت کے شعبے شامل ہوں گے، تاکہ دونوں ممالک نہ صرف اقتصادی طور پر منسلک ہوں بلکہ خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی بھی ترتیب دی جائے۔ گزشتہ ماہ ہی پاکستان اور روس نے کراچی میں واقع Pakistan Steel Mills (PSM) کو بحال اور جدید بنانے کے لیے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے تھے، جو دونوں ملکوں کے صنعتی تعاون کی نئی مثال تھی۔ اس پس منظر میں آج دستخط ہونے والے معاہدے پاک روس تعلقات کو جدت اور مضبوطی کی طرف گامزن کرنے کا عندیہ ہیں۔
سیاست اور خارجہ امور پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشتیں نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو فروغ دیں گی بلکہ خطے میں توانائی اور اقتصادی استحکام کے نئے امکانات کو بھی جنم دیں گی۔ دونوں ملکوں نے پچھلے برس بھی توانائی، دفاع اور صنعتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اب اس نئے اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ عملی شراکت داری کو جامع اور دیرپا بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔
حوالہ: دنیا نیوز رپورٹیں