لاہور: حالیہ دنوں میں اوگرا (Oil & Gas Regulatory Authority) کی جانب سے گیس کی قیمتوں کے حوالے سے دیے گئے مختلف بیانات عوام میں شدید الجھن پیدا کر رہے ہیں۔ ایک جانب اوگرا نے اعلان کیا ہے کہ کچھ گیس کمپنیوں کے نرخوں میں “اوسطاً 8 فیصد تک کمی” کی منظوری دی گئی ہے، تاکہ صارفین کو ریلیف ملے، مگر دوسری جانب وہی اتھارٹی مختلف ذرائع کو یہ بتا رہی ہے کہ گیس کی قیمتوں میں “7 فیصد تک اضافہ” کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ کمپنیوں کے ریونیو کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔
یہ متضاد بیانات صارفین میں شدید بے چینی کا باعث بنے ہوئے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ گیس کمپنیوں نے ٹیرف میں 28 فیصد سے زائد اضافہ کی درخواستیں اوگرا میں دائر کی ہوئی تھیں۔ صنعتی حلقے پہلے ہی اوگرا کے متوقع فیصلہ کیخلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ قیمتوں کا اضافہ صارفین پر بھاری بوجھ ڈالے گا جبکہ کمی کا دعویٰ محض ذیلی ریگولیٹری اصلاحات کا حصہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اوگرا کو واضح اور شفاف پالیسی اپنانا چاہئے اور عوام کو اعتماد دلانے کے لیے انہیں قیمتوں میں کسی بھی تبدیلی کی مکمل وضاحت کرنی چاہئے۔ ایسی الجھنیں توانائی کے منڈی میں عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہیں اور صارفین کے لیے مالی بحران کا دروازہ کھول سکتی ہیں۔
حوالہ: Dawn News Urdu