سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ کر کے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کو 350 فیصد تجارتی ٹیرف کی سخت دھمکی دے کر روکا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق کشیدگی اس نہج پر پہنچ چکی تھی جہاں دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے پر تصادم کا خطرہ موجود تھا، جسے انہوں نے امریکی دباؤ کے ذریعے ٹالا۔
ٹرمپ نے ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی قیادت دونوں کو واضح پیغام دیا کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو واشنگٹن دونوں ممالک پر 350 فیصد ٹیرف عائد کر دے گا، جس سے ان کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ سخت مؤقف اس قدر مؤثر ثابت ہوا کہ دونوں ممالک نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں جنوبی ایشیا میں ایٹمی تصادم نہیں دیکھنا چاہتے تھے، کیونکہ اس کے اثرات دنیا بھر تک پھیل سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ چھڑتی تو “نیوکلیئر گرد” ایشیا سے باہر بھی پھیل سکتی تھی، اس لیے امریکہ نے وقت پر مداخلت کی۔
دوسری جانب بھارت کی جانب سے ٹرمپ کے دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کا خاتمہ فوجی رابطوں اور سفارتی سطح پر بات چیت کے ذریعے ممکن ہوا، نہ کہ کسی تیسرے ملک کی دھمکی سے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا دعویٰ مبالغہ آمیز ہو سکتا ہے، تاہم اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی معاشی طاقتیں تجارتی دباؤ کو بطور سفارتی ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں۔ اس بیان کے بعد دنیا بھر میں اس سوال پر بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا ٹریڈ ڈپلومیسی واقعی جنگوں کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے یا نہیں۔