نریندر مودی کی قیادت والی بھارتی حکومت پر بین الاقوامی حلقوں میں “انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم” کے الزامات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک کی انسانی حقوق تنظیموں نے مودی سرکار کے رویے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی تضحیک قرار دیا ہے۔
-
Gujarat فسادات کا تناظر: “کولیشن آگینسٹ جینوسائیڈ” (Coalition Against Genocide) کی ایک رپورٹ میں مودی کو 2002 کے گجرات فسادات کے دوران مسلمانوں کے خلاف ریاستی سطح پر کارروائی اور قتلِ عام کے ذمے دار بتایا گیا ہے۔
-
کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی: پاکستانی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو رسائی نہیں دے رہا، اور مودی کی انتظامیہ “نفرت انگیز تشہیری مہم” چلا کر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
-
زہر آلود بیانیہ اور اقلیتی رویہ: مودی حکومت پر الزام ہے کہ وہ مسلمانوں اور پناہ گزینوں جیسے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف “انتہائی متعصبانہ” پالیسی اپنا رہی ہے، اور حملوں یا چھاپوں کے ذریعے انہیں دہشت گردی کے الزامات کے تحت دبایا جا رہا ہے۔
-
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی: مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے “عالمی انسانی قوانین” کو نظر انداز کر کے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے سنگین اقدامات اٹھائے ہیں، جو بین الاقوامی فوجداری زمروں میں آ سکتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری قانون کے نفاذ اور بین الاقوامی عدالتوں کے ذریعے انصاف پر توجہ نہ دے، تو انسانی حقوق کی پامالی ایک عام پیشہ بن سکتی ہے۔