اسلام آباد: سینیٹ سے منظوری کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، جہاں اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر جلد بازی کا الزام عائد کیا۔
وزیر قانون نے بل ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد آئینی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور صوبوں کے اختیارات میں توازن پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ ترمیم ملکی آئین کو مزید مضبوط اور جمہوری نظام کو مستحکم کرے گی۔
تاہم اپوزیشن بینچوں سے شور شرابا شروع ہو گیا۔ ارکان نے مطالبہ کیا کہ بل کو پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ اس پر تفصیلی غور و خوض ہو سکے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ “حکومت آئین میں ترمیم جیسے حساس معاملے پر مشاورت کے بغیر کارروائی کر رہی ہے، جو جمہوری روایت کے خلاف ہے۔”
ایوان میں اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی بھی کی جبکہ اسپیکر نے اپوزیشن کو یقین دلایا کہ ترمیم پر بحث کے تمام ارکان کو موقع دیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ یہ ترمیم کسی جماعت کے مفاد میں نہیں بلکہ قومی مفاد میں ہے۔
ذرائع کے مطابق، قومی اسمبلی میں اس بل پر آئندہ اجلاس میں ووٹنگ متوقع ہے، جہاں حکومت کو اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔