اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی پیداوار لاگت اور سبسڈی کے بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی فروخت کرنے والے صارفین کے ریٹ کم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے سولر پینلز کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے گھریلو اور کمرشل صارفین براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے نیپرا کو نیٹ میٹرنگ کے موجودہ ریٹ پر نظرِ ثانی کی سفارش بھیج دی ہے۔ تجویز کے مطابق موجودہ فی یونٹ 21 روپے کے بجائے اسے 14 سے 16 روپے فی یونٹ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے باعث بجلی کی طلب اور سپلائی میں عدم توازن پیدا ہو رہا ہے، جبکہ گرڈ سے جڑی لاگت کا بوجھ عام صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ماہرینِ توانائی نے حکومت کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے ریٹ کم کرنے سے عام شہریوں میں سولر انرجی میں سرمایہ کاری کا رجحان متاثر ہو گا، جو قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے خلاف ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیپرا حتمی منظوری سے قبل عوامی سماعت کرے گا تاکہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو شامل کیا جا سکے۔ اگر فیصلہ منظور ہو گیا تو نیا ریٹ آئندہ مالی سال سے نافذ العمل ہو سکتا ہے۔