حالیہ تخلیقات
ہجومِ غم سے جس دم آدمی گھبرا سا جاتا ہے
میرے خوش نظر، میرے خوش خبر
وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
محبت کی ایک نظم، اگر کبھی میری یاد آئے
بھیڑ میں ایک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی
📚 مصنف کی ای بکس
تمام ای بکس دیکھیں👤 پروفائل
ذاتی معلومات
پیدائش کی معلومات
وفات کی معلومات
تفصیلی سوانح حیات
امجد اسلام امجد (پیدائش: 4 اگست 1944ء - وفات: 10 فروری 2023ء) ایک پاکستانی اردو شاعر، ڈراما نگار، گیت نگار، کالم نگار تھے۔ 50 سال پر محیط کیریئر میں انھوں نے ستر سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ انھیں اپنے ادبی کام، شاعری اور ٹی وی ڈراموں کے لیے بہت سے اعزازات ملے، جن میں تمغہ حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز شامل ہیں۔
امجد اسلام کی پیدائش 4 اگست 1944 کو لاہور میں ہوئی۔ انھوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔ اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹیسے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انھوں نے اپنے کیریئر کے آغاز ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد کی حیثیت سے کیا۔
1975ء اور 1979ء کے درمیان امجد پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ڈائریکٹر رہے۔ 1989ء میں انھیں اردو سائنس بورڈ کا ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ انھوں نے چلڈرن لائبریری کامپلیکس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔
امجد اسلام امجد کو ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے انھیں تمغائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ ان کی شخصیت پر تقریباً دس سے زائد تنقیدی کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔
ان کے شعری مجموعوں میں درج ذیل شامل ہیں
بارش کی آواز
شام سرائے
اتنے خواب کہاں رکھوں
نزدیک
یہیں کہیں
ساتواں در
فشار
سحر آثار
ساحلوں کی ہوا
محبت ایسا دریا ہے
برزخ
اس پار
حوالہ:
https://ur.wikipedia.org/wiki/امجد_اسلام_امجد
📚 ای بکس (1)
🌹 غزلیں (2)
📖 نظمیں (1)
✍️ اشعار (1)
وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر، میری بات سُن — اُسے بھول جا، اُسے بھول جا۔