اسلام آباد: ذرائع کے مطابق افغان طالبان اور کابل انتظامیہ کے درمیان حالیہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، جس کی بنیادی وجہ کابل انتظامیہ کی غیر منطقی اور غیر حقیقت پسندانہ تجاویز قرار دی جا رہی ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکام نے مذاکرات کے دوران ایسے مطالبات پیش کیے جو نہ صرف یکطرفہ تھے بلکہ زمینی حقائق سے مطابقت بھی نہیں رکھتے تھے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کا مقصد افغانستان میں پائیدار امن، سرحدی تعاون اور تجارتی روابط کی بہتری پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا، تاہم کابل انتظامیہ کے غیر لچکدار رویے نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔ بتایا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران افغان وفد نے بعض ایسے سیاسی نکات پر زور دیا جو پاکستان کے موقف کے منافی تھے، جب کہ پاکستانی وفد نے علاقائی استحکام اور باہمی احترام پر مبنی پالیسی کی تجدید کی۔
ذرائع کے مطابق کابل انتظامیہ نے بعض ایسے معاملات میں بھی مداخلت کی کوشش کی جو پاکستان کے داخلی امور سے متعلق تھے، جس کے بعد مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان اپنی پالیسی میں نرمی اور حقیقت پسندی اختیار نہ کرے تو آئندہ مذاکرات بھی غیر مؤثر رہنے کا خدشہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے عالمی ثالثی کردار ادا کرنے کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔